ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا میں خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا میں کام کرنے والی کئی خواتین ملازمین نے جنسی ہراساں کیے جانے کا الزام عائد کر کیا ہے۔ تاہم اب یہ الزام عائد کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق خواتین کا کہنا ہے کہ کمپنی کا ماحول ’زن بیزاری‘ کے جذبات سے لبریز ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرد ملازمین کمپنی میں کام کرنے کیلئے نہیں بلکہ پارٹی کرنے کیلئے آتے ہیں۔

جمعرات کے روز مزید 6 خواتین کی جانب سے ٹیسلا کمپنی کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں خواتین نے الزام عائد کیا ہے کہ ٹیسلا میں ملازمت کے دوران مرد ملازمین ان کے جسم اور لباس کے متعلق نازیبا جملے کستے ہیں اور ان کے جسم کو نازیبا انداز میں چھوتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک بے گھر ہوگئے

جنسی ہراسگی کے مقدمات درج کروانے والی خواتین میں 31 سالہ ایڈن میڈروز بھی شامل ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ ’جب جب ایلون مسک اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے جنسیت پر مبنی جملے ٹوئٹ کرتے تھے، تب تب کمپنی میں مرد ملازمین خواتین کو زیادہ جنسی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیتے تھے۔‘

واضح رہے کہ جنسی ہراسگی کے الزام کے تحت ٹیسلا پر پہلا مقدمہ ایک خاتون نے گزشتہ ماہ کیلیفورنیا سپریئر کورٹ میں دائر کرایا تھا۔