جانوروں کی گانٹھ والی جلد کی بیماری پاکستان میں داخل

جانوروں کی گانٹھ والی جلد کی بیماری پاکستان میں داخل ہوگئی ہے۔

جانوروں کی گانٹھ والی جلد کی بیماری پاکستان میں داخل ہوگئی ہے جس کے باعث پاکستان ڈیری اینڈ کیٹل فارم ایسوسی ایشن نے جانوروں کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈی سی ایف اے پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ جانوروں کی کراچی سمیت سندھ سے نقل و حمل پر سخت پابندی عائد کی جائے تاکہ دیگر علاقوں میں گانٹھ کی جلد کی بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ایسوسی ایشن نے صحت مند جانوروں کیلئے ویکسین لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی: ملیر کے مذبح خانے میں بیمار، کم عمر اور مردہ جانور کاٹے جانے کا انکشاف

ایسوسی ایشن کے مطابق نئے خریدے گئے جانوروں کو 15 دن (قرنطینہ) کیلئے الگ سے باندھنا چاہیے۔ جب تک کہ یہ واضح نہ ہو جائے کہ ایسے جانور میں جلد کی بیماری کا کوئی وائرس نہیں ہے۔

وائرس متاثرہ جانور کے تھوک اور مکھی کے ڈنک یا کاٹنے سے صحت مند جانوروں میں پھیلتا ہے۔ کسان کو یہ جاننا چاہیے کہ یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے، اس لیے وبا پر مناسب کنٹرول یقینی بنایا جائے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ متاثرہ جانوروں کو ذبح کرنا اچھا عمل نہیں ہے کیونکہ یہ وائرس مستحکم مکھی میں بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جانور کے تھوک سے بھی پھیل سکتا ہے۔ پاکستان میں یہ وباء نئی ہے اس لیے اس کے خلاف مقامی ویکسین تیار نہیں کی گئی۔ تمام کسانوں کو بہت احتیاط سے کام کرنا چاہیے۔ اس بیماری کیلئے ابھی تک کوئی قانونی طور پر رجسٹرڈ دوا نہیں ہے۔ صرف صحت مند جانوروں کی ویکسین کام کر سکتی ہے۔