کرپٹو کرنسی کا کاروبار پر ایک ہزار 64 بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز منجمد

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کرنے پر ایک ہزار 64 افراد کے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز منجمد کر دیئے ہیں۔

ویب سائٹ ’پرو پاکستانی‘کے مطابق ایک ماہ قبل سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کی جانب سے درخواست کی گئی تھی جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کرنے پر ایک ہزار 64 افراد کے بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز منجمد کیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بینک اکاﺅنٹس سے متعلق باقاعدہ انکوائری رجسٹرڈ کی گئی اور تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ لوگ اب تک مجموعی طور پر 5 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 2 ہزار 923 ٹرانزیکشنز کر چکے ہیں۔ یہ ٹرانزیکشنز بینانس (Binance)، کوائن بیس (Coinbase) اور کوائن ماما (Coinmama) سمیت کئی آن لائن ایکسچینجز کے ذریعے کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں لوگوں کے پاس 20 ارب ڈالرز کی کرپٹو کرنسی کی موجودگی کا انکشاف

واضح رہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی جیسے ورچوئل اثاثہ جات خریدنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشن ڈیپارٹمنٹ (بی پی آر ڈی) کے سرکلر نمبر 3 کے تحت تاحال غیرقانونی ہے۔ اس لیے جو پاکستانی شہری اپنے بینک اکاﺅنٹس یا کارڈز کے ذریعے کرپٹو کرنسی کی خریدوفروخت کریں گے ان کے اکاﺅنٹس غیرمعینہ مدت تک منجمد یا معطل کیے جا سکتے ہیں۔

جولائی 2021ء تک کے ڈیٹا کے مطابق اس پابندی کے باوجود کرپٹو کرنسی کی مقبولیت اور خرید و فروخت کے حوالے سے پاکستان حیران کن طور پر دنیا کے پہلے 15 ممالک میں شامل ہے۔ چینلائزز نامی ایک کمپنی کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے کرپٹو کیش کی صورت میں ڈیڑھ ارب ڈالرز سے زائد وصول کیے۔