سیالکوٹ: ملازمین نے فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر قتل کردیا

صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو فیکٹری ملازمین نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر تشدد کر کے قتل کردیا۔

سیالکوٹ میں اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو فیکٹری ملازمین نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر تشدد کر کے قتل کردیا۔ یہ واقعہ سیالکوٹ کے علاقے وزیر آباد روڈ پر پیش آیا۔ فیکٹری ملازمین نے فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا۔ پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ملازمین نے تعاقب کر کے چھت پر گھیر لیا۔ فیکٹری ملازمین نے منیجر کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔

فیکٹری ملازمین منیجر کو مارتے ہوئے بالائی منزل سے نیچے لائے اور تشدد کر کے قتل کردیا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ فیکٹری ملازمین لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے اور لاش کو ڈنڈے اور لاتیں مار کر آگ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ بار کونسل کے سیکریٹری عرفان مہر قاتلانہ حملے میں جاں بحق

پولیس کے مطابق فیکٹری ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ منیجر نے ایک پوسٹر پھاڑ کر مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کیے جس کے بعد ملازمین نے اکٹھے ہوگئے۔

پولیس کے مطابق فیکٹری ملازمین کے ہجوم نے منیجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مارنے کے بعد لاش گھسیٹ کر جی ٹی روڈ پر لے گئے اورآگ لگادی۔ ڈھائی گھنٹے تک جی ٹی روڈ پر ٹریفک بلاک رہا جسے بعد میں کھلوا دیا گیا۔ مشتعل افراد نے فیکٹری میں توڑ پھوڑ بھی کی۔