کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت سے متعلق سندھ ہائیکورٹ نے کمیٹی تشکیل دیدی

سندھ ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی جس میں اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان)، وزارت خزانہ، وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور درخواست گزار شامل ہوں گے۔

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ میں ڈیجیٹل کرنسی پر پابندی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک، درخواست گزار اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سندھ ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا۔ اور ڈائریکٹر ایف آئی سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایل سلواڈور نے بٹ کوائن کو قانونی حیثیت دے دی

عدالتی حکم کے مطابق کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھی جائے گی۔ کمیٹی کا کوئی بھی ممبر اس سے متعلق کوئی پریس ریلیز یا سوشل میڈیا پر بات نہیں کرے گا۔ اگر کوئی کمیٹی کا ممبر دستیاب نہ ہو تو کام کو نہ روکا جائے۔

عدالت نے حکم دیا کہ غیر قانونی کام کرنے والے ایکسچینجز کے خلاف ایس ای سی پی کارروائی جاری رکھے گا۔ عدالت نے درخواست کی مزید سماعت جنوری 2022 کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام کمیٹی ممبران آئندہ سماعت پر اپنی رپورٹس کے ساتھ پیش ہوں۔

عدالتی حکم کے مطابق درخواست گزار کمیٹی کی معاونت کریں گے اور اپنی سفارشات دیں گے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 25 اکتوبر کو ہوگا۔ اس کے بعد اجلاس ہر 15 دن میں ہوگا۔