کیا واقعی کورونا وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ زیادہ خطرناک ہے؟

کورونا وائرس کی ’اومیکرون‘ نامی نئی قسم نے دنیا کو نئے خوف میں مبتلا کر دیا ہے اور لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا کورونا کی یہ قسم زیادہ خطرناک ہے؟

کہا جارہا ہے کہ ’اومیکرون‘ کورونا وائرس کی اب تک کی خطرناک ترین قسم ہے اور اس میں اتنی میوٹیشنز ہیں کہ کورونا کی تیار کی گئی ویکسینز اس پر بے اثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کورونا وائرس کی دیگر اقسام کی نسبت ’اومیکرون‘کئی گنا زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے ہلاکتوں کی شرح بھی دیگر اقسام کی نسبت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد صحتیاب ہوجانے والے لوگ بھی ممکنہ طور پر ’اومیکرون‘نامی اس نئی قسم کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کورونا کی اس قسم پر ویکسین کے اثر سے متعلق بھی تاحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا میں مبتلا ماؤں کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے، تحقیق

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع بامبینو گیسو اسپتال کے سائنسدانوں کی جانب سے اومیکرون کی پہلا تھری ڈی امیج جاری کردی گئی ہے جو ایک نقشے کے جیسی ہے۔ اس امیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اومیکرون میں ڈیلٹا کی نسبت کہیں زیادہ میوٹیشنز ہیں۔ تاہم سائنسدانوں کی اس ٹیم نے کورونا وائرس کی قسم ’اومیکرون‘کے زیادہ خطرناک ہونے یا نہ ہونے سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ’اومیکرون‘ میں میوٹیشنز پروٹین کے اوپر ایک حصے میں جمع ہیں۔ یہ وہ حصہ ہے جو انسانی خلیوں کے ساتھ انٹریکٹ کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کورونا وائرس کی ’اومیکرون‘ قسم زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس نے خود کو انسانی خلیوں سے مزید ہم آہنگ کرلیا ہے۔ دیگر تحقیقات میں معلوم ہوسکے گا کہ اس طرح وائرس کا خود کو انسانی خلیوں سے ہم آہنگ کرنا کم خطرناک ہے یا زیادہ۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم ’اومیکرون‘ سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی تھی۔ جس کے بعد سے اب تک اس کے کیسز کئی ممالک میں سامنے آچکے ہیں۔