سیاست اپنی جگہ

ہمارے ملک کے سیاسی حالات تو کافی عرصے سے بگڑے ہوئے ہیں اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں لیکن اس سیاست کے چکر میں یہ مقدس مقامات کوبھی لے آئیں گے اس کا اندازہ تو بالکل بھی نہیں تھا۔ ہم کیا اتنے گر چکے ہیں کہ اپنے مقدس مقامات کو بھی سیاست کی نذر کردیا۔ جو بھی کرنا ہے جیسے بھی کرنا ہے ارے یہاں پر کرونا۔ بحیثیت مسلمان کیا یہ سب وہاں پر کرنا زیب دیتا تھا؟ اور کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جی وہ مسجد کے اندر کا حصہ نہیں تھا، مسجد کے باہر کھڑے تھے تو چلو مان لیا مسجد کے باہر تھے لیکن مسجد سامنے تو تھی۔ اپنے آقا ﷺ کے قریب تو تھے۔ وہ سرزمین تو ہمارے آقا ﷺ کی تھی، وہاں تو احترام کا خیال رکھتے۔

وہ تو ایسی جگہ ہے جہاں فرشتے بھی ادب سے سر جھکا کر رکھتے ہیں جہاں اونچی آواز سے بولنے کی بھی سخت ممانعت ہے اور وہاں پر لوگوں نے کیا کیا؟ کم ازکم اس پاک سرزمین کے تقدس کا خیال رکھ لیتے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: (اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو اسی طرح ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو)۔

یہ بھی پڑھیے

ڈوبتی انسانیت

یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی ہمارے صحابہ کرام نے اونچی آواز سے بات بھی نہیں کی تھی اور ہم نے کیا کیا؟ ہم اپنی سیاسی دشمنیاں نبھانے کیلئے حرم کی حرمت بالکل بھول گئے اور جو سمجھ رہے ہیں یہ احتجاج ہوا ہے غلط کو غلط کہا ہے تو یہ احتجاج نہیں ہے یہ حرم شریف کی پامالی کی گئی ہے اور اس سب کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اپنی امت کی بخشش کیلئے رو رو کر دعائیں مانگیں اور آج ہم ان کے سامنے اپنی آوازیں بلند کر رہے ہیں۔ رونے کا مقام ہے، شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے اور شرم سے ڈوب مرو۔

ذرا سوچو! روز محشر ہم کس منہ سے اپنے آقا ﷺ کے سامنے جائیں گے؟ ہم ان کو کیا منہ دکھایں گے جب وہ ہم سے پوچھیں گے تو ہم ان کو کیا جواب دیں گے؟

خدارا کچھ تو ہوش کے ناخن لو۔ خدا کا خوف کرو سیاسی دشمنیوں میں اتنے اندھے مت بنو کہ مقدس مقامات کا احترام بھی بھول جاؤ۔

آخر میں یہی دعا ہے کہ یا اللہ ہمیں معاف کر دے ہم بہت گناہ گار ہیں۔ اعمال کے نام پر ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ تو رحمان ہے، رحیم ہے، ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے اپنے محبوب کے صدقے ہمیں معاف کر دے۔ آمین


زنیرہ آصف