ڈوبتی انسانیت

جیسا دور چل رہا ہے مانو لگتا ہے بے حسی کا مقابلہ چل رہا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش میں ہے۔ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا کردار کشی کرنا ایک عام بات بن چکی ہے۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو یقین مانو کوئی آگے نہیں آئے گا سب ایک دوسرے کا منہ دیکھیں گے۔

کچھ ایسا ہی واقعہ کھاریاں میں پیش آیا ہے۔ ایک خاتون کا سڑک پار کرتے ہوئے ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ریسکیو کو کال کی گئی لیکن انہیں پہنچنے میں دیر ہوگئی۔ اس کے اردگرد ایک ہجوم اکھٹا ہوگیا اور سب کے پاس گاڑیاں تھیں۔ سب کے سب کھڑے ہو کر اس کو مرتا ہوا دیکھ رہے تھے، ویڈیوز بنا رہے تھے، تصویریں کھینچ رہے تھے۔ پر یقین مانیں کسی کو بھی شرم نہیں آئی، کسی کا ضمیر نہیں جاگا، کسی کے دل میں خوف خدا پیدا نہیں ہوا۔ سب اس کی موت کا تماشا دیکھ رہے تھے اور اتنے میں ہی اس خاتون نے دم توڑ دیا۔

جب تماشا ختم ہوا تو سب یہ جاوہ جا۔ کیا ہمارے دل اتنے مردہ ہو چکے ہیں کہ ہمارے اندر احساس نام کی، انسانیت نام کی کوئی چیز ہی نہیں رہی؟ ایک انسان آپ کی آنکھوں کے سامنے تکلیف میں تڑپ رہا ہے، مر رہا ہے اور آپ اس کی مدد کے بجائے ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ ہماری تعلیم کیا ہمیں یہ سکھا رہی ہے؟ ہمارا مذہب ہمیں سب کی بھلائی کا سبق دیتا ہے اور ہم نے کیا پڑھا کیا سیکھا؟ جن چیزوں پر ہمیں عمل کرنا چاہیے تھا آج ان پر غیر مسلم عمل کر رہے ہیں اور ہم ۔۔۔؟

یہ بھی پڑھیے

واٹس ایپ پر موصول ہونے والے پیغامات

آج جس جگہ وہ خاتون تھی کل کو ہم میں سے بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ ہم بھی مدد کیلئے کسی کی طرف دیکھیں اور کوئی نہ آئے تو پھر ۔۔۔؟ تو ذرا سوچیے ! اپنے دلوں کو اتنا مردہ مت ہونے دیں، اپنے اندر کی انسانیت کو زندہ رکھیں کیونکہ اپنے ہر ایک عمل کا حساب ہم نے دینا ہے۔ اور وہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ ’جو بویا وہی کاٹا‘ تو بیج اچھا بوئیں گے تو فصل اچھی ہوگی اور اگر بیج ہی برا نکلا تو فصل کا کیا ہوگا وہ تو آپ جان ہی گئے ہوں گے۔


زنیرہ آصف