تمباکو نوشی مضر صحت

پودوں کے جلنے والے مواد کے دھوئیں کو سانس لینے اور باہر نکالنے کا عمل اسموکنگ کہلاتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر تمباکو سے وابستہ ہوتا ہے جو کہ مختلف اقسام کے پودوں کے مواد سے تیار کیا جاتا ہے جس میں میریجوانا اور حشیش شامل ہوتے ہیں۔ جو عام طور پر سگریٹ، سگار اور پائپ میں موجود ہوتا ہے۔

سگریٹ نوشی جیسے عام طور پر تمباکو نوشی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی جان لیوا وباء ہے جو کسی بھی قوم کے لوگوں کو آہستہ آہستہ اس عادت میں اس طرح جکڑتی ہے کہ انسان کو احساس تک نہیں ہوتا اور انسان موت کے قریب سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

دنیا میں یہ وباء بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور سگریٹ پینے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں تمباکو کو انتہائی نشہ آور اور دنیا میں موت اور بیماری کے تباہ کن وجوہات میں سے ایک تسلیم کیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ بیسویں صدی کے آخر میں ترقی پذیر ممالک میں تمباکو نوشی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق 1990 کی دہائی کے آخر میں دنیا بھر میں تقریباً 40 لاکھ افراد سگریٹ نوشی سے مرے۔ یہ تخمینہ 2003 میں تقریباً 50 لاکھ رہا۔ اور 2011 میں اس کی شرح بڑھ کر 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔ 2030 تک یہ شرح 80 لاکھ تک پہنچنے کے امکانات ہیں۔

پاکستان میں یہ وباء سنگین حد تک بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کی کل آبادی تقریباً 225.19 ملین ہے۔ 2016 میں پاکستان سب سے زیادہ تمباکو نوشی کرنے والے ملک میں شمار ہوا جس میں 69.43 بلین سگریٹ استعمال ہوئیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2005 میں پاکستان میں 90 ارب سگریٹ استعمال کی گئیں۔ 2016 میں سگریٹ پینے والوں میں فیصد 37.8 مرد، 5.8 فیصد عورتیں، جبکہ 12 ہزار بچے (جن کی عمر 6 سے 15 سال کے درمیان ہے) روزانہ سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ 2017 میں تقریباً ایک لاکھ 63 ہزار افراد تمباکونوشی سے لقمہ اجل بنے جس میں تمباکو سے ہونے والی بیماریاں، پھیپھڑوں کا کینسر، منہ، خون اور سروائیکل کینسر شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 21 ہزار 432 ٹنز سگریٹ کا کچرا 2016 میں پاکستان میں بنا۔

پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک نوجوان باقاعدگی سے تمباکو کا استعمال کرتا ہے۔ یہ ملک کی صحت اور معیشت پر سنگین حد تک اثر انداز ہو رہا ہے۔ تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ 60 ہزار اموات ہوتی ہیں۔

تمباکو کا استعمال پاکستان میں اس کے خطرات کے بارے میں آگاہی کی کمی، کم قیمتوں، تمباکو کی صنعت کی جارحانہ کوششوں اور آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے قائم مقام چیف ڈاکٹر عابد سعید نیما کے مطابق، نئے اندازے سے پتہ چلتا ہے کہ تمباکو ملک میں سالانہ 2 لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک کرتا ہے۔ 2002 میں حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی کی معاونت اور غیر قانونی تمباکو نوشی سے متعلق صحت اور آرڈیننس متعارف کروایا۔ اور اس نے 2005 میں ڈبلیو ایچ او کے بنائے گئے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول ( ایف سی ٹی سی) کی توثیق کی۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے تمباکو کے دھویں سے لوگوں کو بچانے اور خطرات سے آگاہ کرنے اور تمباکو کے اشتہارات پر پابندی لگانے کیلئے اہم اقدامات کیے ہیں۔ تاہم تمباکو پر ٹیکس بڑھانے پر طلب کو کم کرنے کیلئے جو صحت کے ادارے قائم کیے گئے ہیں وہ دنیا سے ابھی بھی بہت پیچھے ہیں۔ اس لیے تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کیلئے کم سے کم مدد دستیاب ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں تمباکو نوشی مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ مثال کے طور پر سگریٹ حقہ( پائپ)، شیشہ، سگار اور ای سگریٹ (جو ویپ کہلاتا ہے)۔ یہ تیزی سے نئی نسل میں استعمال ہونے والی سگریٹ ہے جسے کم عمر بچے اور نوجوان بھی استعمال کر رہے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں اب پہلے کی نسبت زیادہ نوجوان ہیں اور کم از کم 2050 تک ترقی جاری رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ جو سگریٹ اور شیشہ دونوں کیلئے منافع بخش بڑھتی ہوئی مارکیٹ فراہم کرے گی۔

ایک حالیہ مطالعہ ‘بڑا تمباکو، چھوٹے اہداف’ (بِگ ٹوبیکو ٹائنی ٹارگیٹس) سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح تمباکو کی تشہیر اور فروخت پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے آس پاس کی جا رہی ہے۔ اور کس طرح نوجوان نسل اور خاص طور پر لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان میں بچوں کو اسٹور سے سگریٹ خریدتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے تمباکو کنٹرول کے قانون کے مطابق سنگل سگریٹ کی فروخت سختی سے ممنوع ہے تاہم اس اصول کو شاذ و نادر ہی نافذ کیا جاتا ہے۔

نئی نسل میں جتنی تیزی سے حقہ/، شیشہ اور ویپ کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے یہ پاکستان کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ شیشہ کیفے کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے نہ صرف یہ پینے والوں کو نقصان دیتا ہے بلکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی سخت نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ یہ تمباکو اور گرمی کے ذریعے دونوں سے دھواں آلودگی خارج کرتا ہے۔ اسے سیکنڈ ہینڈ اسموک بھی کہا جاتا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ اسموک سے پاکستان میں سالانہ 31 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان میں 3 فیصد بالغ حقہ یا شیشہ پیتے ہیں جن میں سے 4.7 فیصد مرد ہیں اور خواتین کی شرح 1.1 فیصد ہے۔ تاہم طلبا و طالبات میں پائپ یا شیشہ پینے کا زیادہ رجحان ہے۔ قومی سطح پر 12.6 فیصد پاکستانی طلبہ نے کبھی شیشہ نوشی کی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہ شرح 19.1 فیصد ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کی تعمیل میں وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن (این ایچ ایس آر سی) میں نوجوانوں میں شیشہ اور تمباکو نوشی کے رجحان کو روکنے کے لیے شیشہ کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی اور تمباکو کا سامان بھی ضبط کر لیا گیا تھا۔ جبکہ اس پابندی کا نفاذ بہت کمزور تھا۔

ستمبر 2019 اور مارچ 2020 کے درمیان نوجوان تمباکو نوشی کرنے والوں کا ایک سروے بھی کیا گیا جس میں پاکستان کے دس بڑے آبادی والے شہروں کے 60 ہزار سے زائد تمباکو نوشی کرنے والوں کی عادات اور تمباکو کنٹرول پالیسیوں کے بارے میں ان کے خیالات پوچھے گئے۔ محققین نے تمباکو نوشی کرنے والوں اور کاغذ کی ریسائیکلنگ مارکیٹوں سے سگریٹ کے پیکٹ بھی اکھٹے کیے تاکہ غیر قانونی تجارت کی پہچان رکھنے والے ڈبے کی شناخت کی جا سکے۔ سروے سے پتہ چلا کہ تمباکو نوشی کرنے والے نسبتاً جوان کم عمر تھے جن کی عمر تقریباً 35 سال سے کم تھی۔ اوسطاً تمباکو نوشی کرنے والا ایک دن میں 13 سگریٹ پیتا ہے جو 2000 روپے یعنی اپنی آمدنی کا 10 فیصد ماہانہ خرچ کرتا ہے۔ جبکہ دو تہائی تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں اور ایک چوتھائی سے زیادہ نے پچھلے سال کے اندر سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کی تھی جس میں سے بہت کم تعداد میں نوجوان چھوڑنے کے لئے کسی بھی سہارے تک رسائی حاصل کر سکے۔ 80 فیصد تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت تمباکو پر ٹیکس بڑھانے، تمباکو کو فروخت کرنے کی قانونی عمر بڑھا کر 21 سال کرنے, نابالغوں کے ساتھ کاروں میں سگریٹ نوشی پر پابندی اور 10 سال کے اندر تمباکو پر مکمل پابندی لگانے کے حق میں تھے۔

تمباکو کی صنعت کی غیرقانونی تجارت کے دعووں کے برعکس سروے سے پتہ چلا کہ سگریٹ کی کْل پیک کا صرف 16 فیصد غیر قانونی ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خود اپنی نسل کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔


سدرہ سید