طالبان ماڈل

میں یہاں افغان پارلیمان میں بین الاقوامی تعلقات کے کمیشن سے وابستہ رکن ہو ۔ موجودہ حالات کام کرنے والی خواتین کے لیے خاص طور پر بہت تکلیف دہ اور پریشان کن ہیں۔ ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ پوری دنیا اور عالمی برادری نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ یہاں طالبان کی حکومت کسی بھی شکل میں نافذ ہوئی تو لاکھوں عورتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہو جائیں گی۔

مجھے تخار اور ہرات سے ایسے بہت سے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں کہ طالبان کنواری لڑکیوں اور بیوہ خواتین سے نکاح کر رہے ہیں۔ میرے پاس اسے مسترد کرنے یا نظر انداز کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، کیونکہ طالبان اپنے جنگجوؤں کو کہتے ہیں کہ مذہبی طور پر اس کی اجازت ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اب کی بار اگر خدانخواستہ وہ پورے ملک پر جنگ کے بعد قابض ہو گئے تو حالات 1990 کی دہائی سے زیادہ مشکل ہوں گے۔ ہم عورتیں ان کی انتہا پسندانہ طرز کا زیادہ نشانہ بنیں گی ۔

ہمیں یہ بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ کچھ علاقوں میں حکم دیا جارہا ہے کہ گھر کی 12 سے 45 برس کی خواتین کی فہرستیں فراہم کریں۔ رواں برس اپریل میں طالبان نے صوبہ جوزجان میں ایک لڑکی پر جنسی تشدد کیا تھا۔ جون 2020 میں طالبان نے صوبہ تخار میں ایک لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ ایسے کئی واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن مقامی روایات کے باعث انھیں منظر عام پر نہیں لایا جاتا۔ ابھی حالیہ عرصے میں طالبان نے کتنی ہی ملازمت پیشہ خواتین کو ٹارگٹ کر کے مار ڈالا۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے مجھے ایک ایسی عورت کی خودکشی کی اطلاع ملی جس کا طالبان نے ریپ کیا تھا۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب امریکہ کو دوحہ میں مزید مذاکرات نہیں کرنے چاہیے کیونکہ یہاں ظلم اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے اور معاہدے کی کسی شق پر عمل نہیں ہوا۔ یہ کلمات افغان طالبان سے خوفزہ مریم سما کے ہیں۔ اس وقت افغانستان کی صورتحال پوری دنیا کی نوک پرکھڑی ہے۔ آپ جہاں جائیں افغانستان کی خبر سنائی دے گی چاہے اچھی ہو یا بری۔ 15 اگست کو دو ماہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد طالبان نے کابل کو بغیر کسی ایک گولی چلائے فتح کرلیا۔ سن 2001 میں شکست کھانے والے طالبان ایک بار پھر کابل میں آتے ہی دنیا کے سپر پاور امریکا کی حمایت یافتہ اشرف غنی ہاتھ باندھ کر فرار ہوگئے۔ یوں پورا افغانستان ایک بار پھر طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ طالبان نے کابل فتح کرتے ہی عام معافی کا اعلان تو کردیا لیکن افغانستان کی موجودہ صورتحال دیکھ کر ہر کوئی سر پکڑ کر کھڑا ہے۔ کابل ایئرپورٹ کے بھیانک مناظر نے ہر ایک ذی شعور فرد کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ افراتفری کے عالم میں ہر کوئی افغانستان چھوڑنے کی تگ و دو میں ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو بخوبی علم ہے کہ طالبان نے جب پچھلی دفعہ افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو ان کے ساتھ جو کیا وہ ان کے ذہنوں پر نقش ہے۔ ان مناظر کو دیکھتے ہوئے ملک کو الوداع کہہ رہے ہیں تاکہ طالبان کی دہشت کانشانہ نہ بن سکیں۔

یہ بھی پڑھیے

خودکشی کا بڑھتا رجحان

آپ 2021 کے مقابلے میں 2001 کے طالبان دیکھ لیں وہ جب افغانستان پر قابض تھے تو انہوں نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہزاروں افراد کو قتل کردیا۔ اس وقت پاکستان میں افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف تھے لیکن جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر حملہ کیا تو ہم نے افغانی سفیر کے ہاتھ پاؤں باندھ کر امریکہ کو تحفے میں پیش کیا۔ ہم نے امریکہ کوطالبان کے سفیر اور ساتھیوں کا نذرانہ تو پیش کیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ اگر یہ طالبان ایک دن پھر واپس آگئے تو ہم کیا منہ دکھائیں گے۔ آج ملا عبدالسلام ضعیف طالبان کے ایک اہم رکن ہیں۔ شنید ہے کہ ایک بار پھر انہیں پاکستان میں سفیر بنا کر بھیج دیں گے۔ طالبان ہم سے ناراض ہیں، ہم اب ان سے کس طرح ڈیل کریں گے۔ ہم دیوار کے بیچوں بیج پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے لیے طالبان دونوں صورتوں میں مصیبت ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہوگئے تو یہ پاکستان کو اتنی آسانی سے معاف نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے ان کے ساتھ جو کیا وہ ناقابل بیان ہے۔ لیکن اگر یہ ناکام ہوئے تو امریکہ سارا ملبہ ایک بار پھر ہمارے اوپر ڈالے گا اور ہم ہی ان طالبان کے گرے ہوئے پشتوں کو سنبھالنے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ کیونکہ ہم نے ماضی میں ایسے کارنامے انجام دے چکے ہیں لہٰذا ہم دونوں طرف سے پھنس چکے ہیں۔

آپ انتہا دیکھیں ان لوگوں کے کابل میں داخل ہونے کی دیر تھی۔ ہر جگہ افغانستان کا قومی پرچم اتار کر اپنا پرچم لہرا دیا۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ملکی پرچم کسی کی نہیں بلکہ ملک کی ملکیت ہوتا ہے لہٰذا حکومت بدل سکتی ہے،تاریخ بدل سکتی ہے ملک کا پرچم نہیں بدلتا۔ ان کے ہاں اپنے ملک کے پرچم کی کوئی عزت نہیں۔ بھلا وہ آپ کی کیا عزت کرے گا؟ طالبان کی جانب سے ملک میں عام معافی کا اعلان بھی ایک ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ان کے علم میں ہے کہ اپنا وجود تسلیم کروانے کیلئے اچھا رویہ اپنانا چاہیے۔ بھلایہ ڈرامہ بھی ان کے پلان کا حصہ ہے۔ آپ یقین کرلیں طالبان میں پہلے کی نسبت زیادہ پیسہ بھی ہے، طاقت بھی اور غرور بھی۔ انہوں نے امریکہ جیسے ملک کو چوراہے پر کھڑا کردیا ہے تو یہ اپنے مغرور رویے کے ساتھ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں کیونکہ ہمارا ان کے ساتھ سرحد کا طویل حصہ ملتا بھی ہے اور آمدوروفت کے زمینی راستے بھی کھلے ہیں۔ جس دن طالبان افغانستان کی سرزمین پر مکمل کامیاب ہوں گے اس دن سے طالبان ماڈل پاکستان کی گلیوں میں داخل ہوں گے کیونکہ پاکستان میں طالبان نواز لوگ لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہیں۔

آپ یقین کرلیں جس دن ہم طالبان کو تسلیم کرنے کی غلطی کریں گے ہمارے جنازے اٹھنا شروع ہوں گے۔ مغربی ممالک بھی ایک بار پھر ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان افغانستان کو کب قبول کرے گا؟ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو یہ سوچ کرخوش ہورہی ہے کہ طالبان نے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت دی ہے۔ آپ ایک بار اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچ لیں آج تک طالبان کی گرین لسٹ میں خواتین کیوں نہیں ہے؟ کیا انہیں ملک چلانے کیلئے خواتین کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر یہ چاہیں تو خواتین کو ٹرینڈ کرسکتے تھے لیکن یقین کرلیں ان کی سپرلسٹ میں عورت نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ لہٰذا یہ تیور بدلنے میں دیر نہیں لگائیں گے اور پاکستانی طالبان نوازوں کی خوشی ماتم میں بدل جائے گی۔ افغان طالبان کے مجاہدین کا تعلیم سے دور دور تک تعلق ہے اور نہ ہی اہم عہدوں پر براجمان لیڈرز کو تعلیم کا پتہ ہے۔ یہ لوگ سیاسی میدان میں بھی اناڑی ہیں اور حکومت چلانے میں بھی۔ افغانستان میں طالبان کا قبضہ چھری اور خربوزے کا کام بن گیا ہے۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی سمت کٹ سکتا ہے لہٰذا ہمیں طالبان ماڈل پر جشن منانے کے بجائے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔


ممتاز عباس شگری

ممتاز عباس شگری جامعہ اردو میں شعبہ ابلاغ عامہ کے طالبعلم ہیں۔ موصوف روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ کے ٹو، روزنامہ جناح اور اردوپوائنٹ سمیت دیگر اخبارات اور ویب سائٹس کیلئے کالمز/بلاگز لکھتے ہیں۔ ان دنوں سٹی نیوز نیٹ ورک میں کاپی ایڈیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔