خودکشی کا بڑھتا رجحان

زندگی میں پریشانیاں تو آتی رہتی ہیں۔ کوئی ان سے نکل جاتا ہے تو کوئی جذباتی ہوکر انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ آخر مرنا ہی تو کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ناں، لیکن ہماری آج کی نسل بہت جذباتی واقع ہوئی ہے۔

کوئی بھی مسئلہ ہو سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ بس اب تو فوراً سب ختم ہو گیا۔ اب ایک ہی راستہ ہے ہمارے پاس خودکشی۔ یہ خودکشی کے واقعات بہت بڑھتے جارہے ہیں۔ لوگ چھوٹی چھوٹی بات پر جان دینے پر اتر رہے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ ایک طالبعلم امتحان میں فیل ہوگیا اور دل برداشتہ ہو کر اس نے خودکشی کرلی۔ جان لیتے وقت اپنے ماں باپ کے بارے میں نہیں سوچا جو اتنی مشکلات سے گزر کر اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ ان کا مستقبل روشن ہوگا اور ہمارا سہارا بنیں گ

بچے جان دے دیتے ہیں۔ کامیابی اور ناکامی تو زندگی میں آتی رہتی ہے اور یہ تو زندگی کاحصہ ہے۔ اسی سے تو پتہ چلتا ہے آپ کی ذہنی سطح کی مضبوطی کا۔ لیکن بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے لوگوں کی ذہنی حالت بہت ہی نازک ہے۔ کوئی امتحان میں ناکامی پر جان دے رہا ہے، کوئی گھر کے جھگڑوں سے تنگ آ کر تو کوئی غربت کی وجہ سے۔

یہ بھی پڑھیے

والدین، اللہ کی نعمت

2019 کے سروے کے مطابق 8.90 فیصد لوگوں نے خودکشی کی جن میں 13.30 فیصد مرد اور 4.30 فیصد عورتیں شامل تھیں۔ ہمارے مذہب اسلام میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خودکشی حرام ہے۔ ہم دنیا تو ختم کر ہی لیتے ہیں لیکن ساتھ آخرت بھی خراب کر لیتے ہیں۔ یہ زندگی اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اسے یوں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اپنے بچوں کے ذہن اتنے پختہ بنائیں کہ کوئی بھی چھوٹی موٹی پریشانی انہیں توڑ نہ سکے۔ انہیں حالات کا مقابلہ کرنا سکھائیں۔ انہیں بتایں کہ زندگی کتنی ضروری ہے اور ہمیں کس مقصد سے دی گئی ہے تاکہ وہ ان پریشانیوں کو ہرا سکیں نا کہ اپنی جان کی بازی ہار دیں۔ کیونکہ یہاں آپ کے جانے سے کسی کو بھی فرق نہیں پڑے گا، سوائے والدین کے۔ باقی سب رواں دواں رہے گا۔ ارے بھئی ! یہ دنیا کسی کے جانے سے رک نہیں جائے گی، مسئلے مسائل وہیں رہیں گے بس آپ نہیں ہوں گے۔ تو ذرا سوچو!


زنیرہ آصف