والدین، اللہ کی نعمت

ہم فتنوں کے سخت دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس دور میں اپنے ایمان کو بچا کر رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ سب کچھ حاصل کرنے کے جنون میں پاگل ہو چکے ہیں۔ جون 2021 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ والدین جو اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ جن کے بارے میں ارشاد ہوا کہ ‘ماں باپ کو اُف تک نہ کہو’۔ کھاریاں کے ایک گاؤں میں بیٹے نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس باپ کو جس نے اُسے چلنا سکھایا۔ وہ باپ جس کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے۔ وہ بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ خود دھوپ میں جلتے ہیں لیکن بچوں کو ٹھنڈی چھاؤں میں رکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ بڑے ہو کر ہمارا سہارا بنیں گے۔ اور وہی سہارے بڑے ہو کر ان کو بے سہارا کر دیتے ہیں۔

ماں جس کے پاؤں تلے جنت رکھی گئی ہے۔ اسی جنت کو ذلیل و خوار کرتے ہیں۔ وہ ماں جس کے بچے اگر بیمار پڑ جائیں تو رات کو جاگ جاگ کر انکی دیکھ بھال کرتی ہے۔ وہی ماں جب بڑھاپے میں پہنچ جائے اور رات کو ایک بار کھانس کیا دے تو فوراً بولا جاتا ہے کہ تم رات کو سونے نہیں دیتی ہو اور بعض اوقات اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سب واقعات بہت عام ہونے لگے ہیں۔ اسی لیے ہماری حکومت نے ابھی حال ہی میں ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جس کے پیش نظر اب کوئی بھی اپنے والدین کو گھر سے نکال نہیں سکتا۔ اس میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ ایسا کرنے والے کو ایک سال کی جیل ہوگی اور 50 ہزار جرمانہ بھی ادا پڑے گا۔

اس قانون کے پاس ہونے کے کچھ ہی دن بعد ایک نیوز چینل میں ایک خبر چل رہی تھی کہ ایک بیٹے نے اپنی بیوی کے کہنے پر اپنے ماں باپ پر تشدد کیا اور گھر سے نکال دیا۔ باپ قبرستان میں راتیں بسر کرتا رہا اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے گزر بسر کرتی رہی۔ لیکن پولیس نے ایکشن لیا اور اب وہ جیل میں ہے اور اس سے 50 ہزار جرمانہ بھی لیا گیا ہے۔

ہمیں اسی قانون کی ضرورت تھی کیونکہ ہمارا معاشرہ بہت غلط سمت جارہا ہے۔ بہت غلط سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ سزا کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کو یہ یاد دالنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا مذہب اسلام ہے اور اسلام میں ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ کو اس جنت کا دروازہ کہا گیا ہے۔ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے دنیا کے ساتھ آخرت بھی خراب کر لیتے ہیں۔ اسی جنت کو ناراض کر دیتے ہیں اور اس جنت کا دروازہ خود اپنے ہی ہاتھوں بند کر دیتے ہیں۔ خدارا سمجھیے، ہوش کے ناخن لیجیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔


زنیرہ آصف