مہنگائی

2020 بہت سے لوگوں کے لیے بہت مشکل رہا بلکہ مشکل تھا۔ بہت سے کیا سب کے لیے ہی تقریباً مشکل تھا۔ ایک تو لوگ کورونا وائرس سے پریشان تھے اوپر سے بڑھتی ہوئی مہنگائی جو ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی ہی جارہی ہے۔ کورونا کے باعث زیادہ تر کاروبار تو بند پڑے ہیں لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ غریب عوام کیا کرے؟ کچھ ایسے لوگ ہیں جو ایک دن مزدوری کر کے مشکل سے اتنے پیسے کما پاتے ہیں کہ دو وقت چولہا جل سکے لیکن اب تو لگتا ہے کہ وہ بھی مشکل ہوتا جارہا ہے بلکہ ہوچکا ہے۔

ہر چیز کی قیمت 10 گنا بڑھ چکی ہے۔ بازار جاؤ تو پہلے جتنے پیسوں میں 10 چیزیں آتی تھیں اب ایک آتی ہے۔ جو تجوریاں بھر چکے ہیں انہیں تو فرق نہیں پڑے گا لیکن غریب عوام کو فرق پڑے گا۔ میں کسی کوبھی نشانہ نہیں بنا رہی۔ خیر تو میں کہہ رہی تھی کہ یہ کب تک چلے گا؟ خدارا کچھ تو رحم کھاؤ اِن لوگوں پر۔ ان کے لیے جینا تو مشکل نہ بناؤ۔ ان کے حاالت ایسے نہ بناؤ کہ وہ مرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اس باپ کی بے بسی کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تم لوگ جو اپنی ہی اولاد کو بھوک سے تڑپتے دیکھ رہاہو ۔ اس باپ جیسی کہانی دوبارہ مت دہرانے دو جس نے بھوک سے تنگ آ کر اپنے روتے تڑپتے بلکتے بچوں کا گلہ خود ہی گھونٹ دیا اور پھر اپنا بھی۔

پتہ نہیں ہم اتنے بے حس کیسے ہو گئے؟ اپنے ارد گرد کا دھیان رکھنا بھول چکے ہیں اور اگر رکھ بھی لیں تو ساتھ تصویر بنانا نہیں بھولتے ۔سوشل میڈیا پر اسی وقت اپلوڈ ہوتی ہے کہ بھائیوں دیکھو ہم نے مددکی ان کی۔ ایسی صورتحال میں کچھ وہ سفید پوش جنہوں نے اپنا بھرم رکھا ہوتا ہے وہ سامنے نہیں آتے۔ خیر بات چل رہی ہے مہنگائی کی جو ختم ہونے کے بجائے اس سیلاب کی طرح بڑھ رہی ہے جو تھمنے کانام نہیں لیتا۔ تو خدارا کچھ رحم کھاؤ۔ کچھ خدا کاخوف کرو۔ اس سیلاب کو روکو اس سے پہلے کہ کوئی اور خاندان اس کی زد میں آجائے۔


زنیرہ آصف