نیکی کر دریا میں ڈال

ہم بچپن سے صدقات، زکوٰۃ، خیرات اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور نیکی کرنے کے بارے میں سنتے آئے ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کس طرح کرنا ہے اور یہ کس طرح قبول ہوسکتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ ہمیں اللہ کس طرح دے سکتا ہے؟

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 261 میں اللہ فرماتا ہے:

’جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ کشادگی والا اور عم والا ہے.‘

یہ آیت اور آنے والی آیات مدنی ہیں جب لوگ معاشی تنگی کا شکار تھے اس لیے ضروری نہیں ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں ہزاروں لاکھوں روپے دیں۔ جتنا ہوسکے اتنا دیں لیکن اپنی نیکی چھپا کر کریں۔ نیت کی اہمیت ہوتی ہے اللہ مقدار نہیں دیکھتا۔

ہمارے ایک بہت اچھے استاد محترم ہیں سر سید علی عباس عابدی پاکستان بیوکریٹس میں سروس کررہے ہیں اور اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک واقعہ انہوں نے کل ہی سنایا جو ان کے دادا نے انہیں سنایا تھا۔ 1925 میں انڈیا میں ان کے دادا طالبعلم تھے۔ ان کے ایک استاد تھے جو اس وقت معاشی طور پر خوشحال نہیں تھے تو سب طالبعلموں نے فیصلہ کیا کہ ہم سر کو منی آرڈر کے ذریعے 25 روپے بھیج دیا کریں گے۔ (اس وقت 25 روپے آج کے 70-80 ہزار بنتے ہوں گے)۔ اس طرح ان استاد کا گزر بسر ہوتا رہا اور جو سب سے اچھی بات یہ کہ ان طالبعلموں نے بنا بتائے ہی یہ نیکی کی یعنی کہ ان کے استاد کو علم تک نہ ہوا تو یہ نیکی کی بہت اچھی مثال ہے اور نیکی ہمیشہ چھپا کر کرنی چاہیے، کسی کو بھنک بھی نہیں لگنی چاہیے جیسے ان طالبعلموں نے کیا۔

قرآن میں کافی مقامات پر اللہ نے فرمایا ہے کہ جو میں نے تمہیں دیا ہے تم اسی میں سے خرچ کرو۔ اللہ نے ہمیں صرف پیسہ ہی نہیں اور بھی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی ان گنت نعمتیں ہیں۔ ہنر ہے، ذہانت ہے اور بھی ایسی بہت سی چھپی ہوئی نعمتیں اس نے ہمیں دی ہوئی ہیں۔ صرف مال سے ہی نہیں ہم اپنی بہت ساری صلاحیتوں سے بھی دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں۔ اگر ہم کسی کو کوئی ہنر سکھاتے ہیں یا کوئی علم دیتے ہیں اور وہ اس سے کامیاب ہوتا ہے اور اس کو آگے پھیلاتا ہے تو یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ اس سے آپ کو اللہ مزید سرخرو کرے گا۔ اللہ بہت بہتر جاننے والا رحمان ہے وہ کس طرح ہماری راہیں ہموار کرتا ہے ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے۔ اللہ کی راہ میں دینے کا اجر ان گنت ہے، بےشمار ہے، ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔

لیکن دو اصول ہیں اللہ کی راہ میں دینے کے۔ اگر ان کو پورا نہ کیا جائے تو قابلِ قبول نہیں۔ آپ کا اللہ کی راہ میں دینا، اس کے لیے اللہ نے سورۃ البقرہ کی آیت 262 میں فرمایا:

’جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ تو جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے۔‘

کسی کی مدد کرنے کے بعد احسان کا تذکرہ کرنا، اسے اپنا غلام سمجھنا، اسے ذلیل کرنا، شرمندہ کرنا، اس کو تکلیف دینا، طعنہ دینا، یہ جتانا بتانا کہ تم محتاج ہو، برا رویہ اختیار کرنا وغیرہ یہ سب کرنے سے نیکی ضائع ہوجاتی ہے۔ اللہ کو ایسی نیکی کی ضرورت نہیں۔

اللہ سورۃ البقرہ کی آیت 264 میں فرماتا ہے کہ اے ایمان والوں اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو۔

کسی کی مدد کرنا ہمارے لیے اعزاز ہے لیکن احسان جتانا بری صفت ہے اور احسان جتانے والے کو منان کہا جاتا ہے اور منان گناہ کبیرہ میں شمار ہے۔

ہمارے معاشرے میں نیکی بھی اکثر جتا بتا کر ہوتی ہے۔ ان باتوں پر توجہ نہیں ہوتی جبکہ اللہ کا فرمان کچھ اور ہے۔ ہمیں ایسی تعلیمات دی ہی نہیں جاتیں اور نہ ہی ہماری تربیتوں میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا اور ہم اپنی نیکیوں کو ضائع کردیتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی اصلاح کی جائے۔


قراۃ العین قریشی

قراۃ العین قریشی حالات حاضرہ اور سماجی مسائل پر لکھتی ہیں۔