پہلے چین اب برطانیہ

گذشتہ سال سے پوری دنیا میں ایک وبائی مرض پھیل رہا ہے۔ ایک وباء نے پوری دنیا کو اور پھر پوری دنیا کے لوگوں کی زندگیوں کو مفلوج کر رکھا ہے۔ پہلے پہل جب یہ وباء چین سے شروع ہوئی تو چین نے اپنے تمام شہروں میں لاک ڈاون شروع کردیا۔ اس کے بعد دیگر ممالک نے بھی چین سے آمدورفت بند کردی اور سخت ترین پابندیاں عائد کردی گئیں۔ لیکن جب یہ بیماری پاکستان میں نمودار ہوئی تو پورا ملک اس کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوا۔

پچھلے ایک سال سے تعلیمی ادارے اور مارکیٹیں کورونا وائرس کے باعث بہت زیادہ نقصانات اٹھا چکے ہیں اور اسی وباء کی باعث تعلیمی اداروں نے اپنی کلاسز آن لائن طور پر شروع کردی ہیں جس سے طلبہ مطمئن نہیں ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دو سمسٹرز کے آن لائن امتحان اور آن لائن کلاسز کے بعد طلبہ کی بڑی تعداد آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہے۔ طلبہ کا یہی مطالبہ ہے کہ دوبارہ فزیکل کلاسز شروع کی جائیں لیکن حالات جوں کی توں  ہی نظر آرہی ہیں۔

ہر روز یہی خبریں سننے میں آ رہی ہیں کہ اتنے اتنے لوگ کورونا کا شکار ہوئے ہیں۔ چند روز قبل وفاقی وزیر تعلیم اور چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کے درمیان ایک اہم ہوا جس تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی عندیہ دیا گیا۔ ان حالات میں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا کہ آخر کب تک ہم کورونا کے ڈر سے مستقبل کر معماروں کو ایسے چھوڑ کر رکھیں گے۔ پچھلے ایک سال لوگوں نے بہت سختی میں گزارے ہیں اور اب عوام میں یہ خوف پھیلایا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر اب برطانیہ سے آئی ہے جو پہلے سے بھی زیادہ سخت ہے۔

بس بہت ہو گیا اب ہر کوئی اپنی حفاظت خود کرلے، تعلیمی ادارے اور مارکیٹ بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ کورونا  عوام میں اتنا پھیلایا جارہا ہے کہ اب تو کورونا کے مریض کم ہی نظر اتے ہیں اور دماغی مریض ذیادہ۔ اس ملک میں ہر کوئی سرکاری نوکر یا تاجر نہیں۔ یہاں دیہاڑی دار مزدور طبقہ بہت زیادہ ہے اور دوبارہ سے لاک ڈاون نافذ کر کے ان تمام دیہاڑی دار مزدورں کی زندگی کو مزید مفلوج نہ کریں۔ خدارا ان غریب عوام پر  کچھ  رحم کریں۔ تعلیمی ادارے، مارکیٹیں اور تفریحی مقامات کا بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے۔ لوگوں میں کورونا ویکسین لگانے کے رواج کو عام کیا جائے اور اس مہم کو گھر گھر تک  پہنچانے کی ضرورت ہے نہ کہ لوگوں کو گھروں میں بند کرنے کی کیفیت پیدا کردی جائے۔


مجتبیٰ حسن